Recitation
Next: 9_121
Arabic
مَا كَانَ لِأَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرۡغَبُواْ بِأَنفُسِهِمۡ عَن نَّفۡسِهِۦۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ لَا يُصِيبُهُمۡ ظَمَأٞ وَلَا نَصَبٞ وَلَا مَخۡمَصَةٞ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوۡطِئٗا يَغِيظُ ٱلۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنۡ عَدُوّٖ نَّيۡلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٞ صَٰلِحٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
Urdu
مدینے کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زبیا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں، اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا) کا کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے
English
It was not [proper] for the people of Madinah and those surrounding them of the bedouins that they remain behind after [the departure of] the Messenger of Allah or that they prefer themselves over his self. That is because they are not afflicted by thirst or fatigue or hunger in the cause of Allah, nor do they tread on any ground that enrages the disbelievers, nor do they inflict upon an enemy any infliction but that is registered for them as a righteous deed. Indeed, Allah does not allow to be lost the reward of the doers of good
Tafsir — Bayan ul Quran
انسانی زندگی اجتماعی زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی کا اپنے ذوق اور رجحان کے اعتبار سے ایک حلقہ بن جاتاہے جس میں وہ اپنے روز وشب گزارتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ایمان کے راستہ پر چلنا چاہیں ان کے ليے لازم ہے کہ وہ اپنی صحبتوں اور ملاقاتوں کے لیے ان لوگوں کو چنیں جو سچے لوگ ہوں ۔ یعنی جن کے دل کا خوفِ خدا ان کی زندگی کی روش بن گیا ہو۔ جن کے قول اور عمل کے درمیان مطابقت پائی جاتی ہو۔ سچوں کے ساتھ رہ کر آدمی سچا بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ جھوٹوں کا ساتھ پکڑے تو بالآخر وہ خود بھی جھوٹا بن جائے گا۔ آدمی کے سامنے ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ جان کو خطرہ میں ڈال کر اسلام کی خدمت کرنے کا سوال ہو۔جب بھوک پیاس کا مقابلہ کرکے اسلام کے ليے اپنا حصہ ادا کرنا ہو۔ جب اپنے کو تھکا کر خدا کی راہ میں آگے بڑھنا ہو۔ جب دشمنوں کا خطرہ مول لے کر اپنے کو اسلام کی صف میں شامل کرنا ہو۔ جب اپنی پرسکون زندگی کودرہم برہم کرکے خدا ورسول کا ساتھ دینا ہو۔ ایسے مواقع پر آدمی احتیاط اور بچاؤ کا طریقہ اختیار کرکے پیچھے بیٹھ جانے کو پسند کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ یہی تو وہ مواقع ہیں جب کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی ثبوت پیش کرسکتا ہے۔ جب کہ وہ جنت کے ليے اپنی امیدواری کو خدا کی نظر میں قابل قبول ثابت کرسکتا ہے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر پیچھے رہنے والوں میں ایک ابو خیثمہ انصاری بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کے بعد وہ اپنے باغ میں گئے۔ وہاں خوش گوار سایہ تھا، بیوی نے پانی چھڑک کر زمین کو ٹھنڈا کیا، چٹائی کا فرش بچھایا، تازہ کھجور کے خوشے لاکر سامنے رکھے اور ٹھنڈا پانی پینے کے ليے پیش کیا۔ ابو خیثمہ دنیوی آسانیوں ہی کی خاطر تبوک کے سفر پر نہ جاسکے تھے۔ مگر جب جانے والے اور رہنے والے کے درمیان فرق اس انتہائی نوبت کو پہنچ گیا جو اب ان کے سامنے تھا تو ابو خیثمہ اس کو برداشت نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا ’’میں یہاں باغ کے سایہ میں ہوں اور خدا کے بندے لو اور گرمی میں کوہ وبیابان طے کررہے ہیں ‘‘۔ انھوں نے تلوار سنبھالی اور تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہو کر اسی وقت روانہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ گردوغبار میں اٹے ہوئے قافلۂ تبوک سے جاملے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 5419)