Recitation
Next: 8_61
Arabic
وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن قُوَّةٖ وَمِن رِّبَاطِ ٱلۡخَيۡلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمۡ لَا تَعۡلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعۡلَمُهُمۡۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ
Urdu
اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا
English
And prepare against them whatever you are able of power and of steeds of war by which you may terrify the enemy of Allah and your enemy and others besides them whom you do not know [but] whom Allah knows. And whatever you spend in the cause of Allah will be fully repaid to you, and you will not be wronged
Tafsir — Bayan ul Quran
اسلام کا اعتماد استعمال قوت سے زیادہ مظاہرۂ قوت پر ہے۔ اسی ليے اہل اسلام کو قوت مُرہبہ فراہم کرنے کا حکم دیاگیا ، یعنی وہ چیزیں جو حریف کو اس قدر مرعوب کریں کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ اسلام وقت کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بناتا ہے، مگر لازماً لڑنے کے ليے نہیں۔ بلکہ اس ليے تاکہ اس کے دشمنوں پر اس کی دھاک قائم رہے اور وہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی ہمت نہ کریں۔ اسلام كو وقت کے معیار کے مطابق فكري اور عملی اعتبار سے طاقت ور بنانے میں جو لوگ اپنی کمائی خرچ کریں گے وہ کئی گناہ زیادہ مقدار میں اس کا بدلہ اپنے رب کے یہاں پائیںگے۔ اسلام کی فتح کا راز اصلاً جنگی مقابلوں میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی تبلیغ میں ہے۔ اس ليے حکم ہوا کہ جب بھی فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو ہر اندیشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو قبول کرلو۔ کیوں کہ اندیشہ بہر حال یقینی نہیں اور جنگ بندی کا یہ فائدہ یقینی ہے کہ پُرامن فضا میںاسلام کا دعوتی عمل شروع ہو جائے اور اس طرح جنگ کا رکنا اسلام کی نظریاتی توسیع کا سبب بن جائے۔ اسلام خود اپنی ذا ت میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ اگر پوری طرح کسی گروہ کے افراد میں پیدا ہوجائے تو ان کے اندر سے وہ تمام نفسیاتی خرابیاں نکل جاتی ہیں جو نااتفاقی اور باہمی ٹکراؤ کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوتاہے کہ وہ سب کے سب باہم جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ متحد گروہ اگر تعداد میں کم ہو تب بھی وہ اپنے سے زیادہ تعداد رکھنے والے گروہ پر غالب آجائے گا۔ باہمی اتفاق سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ کسی گروہ کی نصرت یافتہ ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ اس کے افراد باہم متحد رہیں، کوئی بھی چیز ان کے اتحاد کو توڑنے والی ثابت نہ ہو۔