Recitation
Next: 8_49
Arabic
وَإِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلۡيَوۡمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّي جَارٞ لَّكُمۡۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلۡفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّنكُمۡ إِنِّيٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوۡنَ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
Urdu
ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ اُلٹے پاؤں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے، مجھے خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا بڑی سخت سزا دینے والا ہے
English
And [remember] when Satan made their deeds pleasing to them and said, “No one can overcome you today from among the people, and indeed, I am your protector.” But when the two armies sighted each other, he turned on his heels and said, “Indeed, I am disassociated from you. Indeed, I see what you do not see; indeed I fear Allah. And Allah is severe in penalty
Tafsir — Bayan ul Quran
مکہ کے مخالفین اپنے آپ کو برسر حق اور پیغمبر کے ساتھیوں کو برسر باطل سمجھتے تھے۔ اس پر ان کو اتنا یقین تھا کہ انھوں نے کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا کی کہ خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو فریق حق پر ہو تو اس کو کامیاب کر اور جو فریق باطل پر ہو تو اس کو ہلاک کردے۔ تاہم ان کا یہ یقین جھوٹا یقین تھا۔ اس قسم کا یقین ہمیشہ شیطان کی تزئین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ شیطان نے مکہ کے لوگوں کو سکھایا کہ تم تاریخ کے مسلّمہ پیغمبروں (ابراہیم واسماعیل علیہما السلام) کے ماننے والے ہو جب کہ مسلمان ایک ایسے شخص کو مانتے ہیں جس کا پیغمبر ہونا ابھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ تم کعبہ کے وارث ہو جب کہ مسلمانوں کو کعبہ کی سر زمین سے نکال دیا گیا ہے۔ تم اسلاف کی روایتوں کو قائم رکھنے کے ليے لڑ رہے ہو جب کہ مسلمان اسلاف کی روایتوں کو توڑنے کے ليے اٹھے ہیں۔ شیطان نے مکہ والوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات ڈال کر ان کو جھوٹے یقین میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں بالکل درست کررہے ہیں اور خدا کی مدد بہر حال ہمیں حاصل ہوگی۔ مکہ کے مخالفین ایک طرف اپنے جھوٹے یقین کو اس قسم کی چیزوں کی بنا پر سچا یقین سمجھ رہے تھے۔ دوسری طرف جب وہ دیکھتے کہ پیغمبر کے ساتھی ان سے بھی زیادہ یقین اور سرفروشی کے جذبہ کے ساتھ اسلام کے محاذ پر اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہیں تو وہ ان کے سچے یقین کو یہ کہہ کر بے اعتبار ثابت کرتے تھے کہ یہ محض ایک مذہبی جنون ہے۔ وہ ایک شخص (پیغمبر) کی خوبصورت باتوں سے جوش میں آکر دیوانے ہورہے ہیں۔ ان کے یقین اور قربانی کی اس سے زیادہ اور کوئی حقیقت نہیں۔ مگر جب دونوں گروہوں میں مقابلہ ہوا اور مسلمانوں کے ليے اللہ کی مدد اتر پڑی تو شیطان مخالفین اسلام کو چھوڑ کر بھاگا۔ ایک طرف خدا کی مدد سے مسلمانوں کے دل اور زیادہ قوی ہوگئے۔ دوسری طرف مخالفین کا جھوٹا یقین بے دلی اور پست ہمتی میں تبدیل ہوگیا۔ کیوں کہ ان کا اعتماد شیطان پر تھا اور شیطان اب ان کو چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔ جو لوگ اللہ پر بھروسہ کریں اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے۔ مگر الله کی مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ اہلِ ایمان اللہ پر یقین کا اتنا بڑا ثبوت دے دیں کہ بے یقین لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔