Recitation
Next: 8_11
Arabic
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ وَلِتَطۡمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمۡۚ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
Urdu
یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں، ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، یقیناً اللہ زبردست اور دانا ہے
English
And Allah made it not but good tidings and so that your hearts would be assured thereby. And victory is not but from Allah. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise
Tafsir — Bayan ul Quran
بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔ مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔