Recitation
Next: 71_28
Arabic
إِنَّكَ إِن تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارٗا
Urdu
اگر تو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور اِن کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا
English
Indeed, if You leave them, they will mislead Your servants and not beget except [every] wicked one and [confirmed] disbeliever
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت نوح کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بگاڑ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پورے معاشرے میں گمراہ عقائد و خیالات اس طرح چھا گئے تھے کہ جو بچہ اس معاشرہ میں پیدا ہو کر اٹھتا، وہ گمراہی کے خیالات لے کر اٹھتا۔ جب معاشرہ اس درجہ کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہوتا کہ ’’طوفان نوح‘‘ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔