Recitation

Next: 7_56


Arabic

ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ


Urdu

ا پنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا


English

Call upon your Lord in humility and privately; indeed, He does not like transgressors


Tafsir — Bayan ul Quran

زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔ انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔


Connections

  • Previous: 7_54
  • Next: 7_56
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes