Recitation

Next: 7_52


Arabic

ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَهۡوٗا وَلَعِبٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ فَٱلۡيَوۡمَ نَنسَىٰهُمۡ كَمَا نَسُواْ لِقَآءَ يَوۡمِهِمۡ هَٰذَا وَمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ


Urdu

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے


English

Who took their religion as distraction and amusement and whom the worldly life deluded.” So today We will forget them just as they forgot the meeting of this Day of theirs and for having rejected Our verses


Tafsir — Bayan ul Quran

دنیا دو قسم کی غذاؤں کا دستر خوان ہے۔ ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ ایک انسان وہ ہے جس کی روح کی غذا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھے۔ دنیا کی رونقیں اپنے گرد پاکر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مادی سازوسامان کا مالک ہو کر وہ اپنے کو کامیاب سمجھتاہے۔ ایسا آدمی خدا اور آخرت کو بھولا ہوا ہے۔ اس کے سامنے خدا کی بات آئے گی تو وہ اس کوغیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردے گا۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سرسری سلوک کرے گا جیسے وہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ ہو بلکہ محض کھیل تماشا ہو۔ ایسے آدمی کے ليے آخرت کے انعامات میں کوئی حصہ نہیں۔ اس نے اپنے اندر ایک ایسی روح کی پرورش کی جس کی غذا صرف دنیا کی چیزیں بن سکتی تھیں۔ پھرآخرت کی چیزوں سے اس کی روح کیوں کر اپني خوراک پاسکتی ہے۔ جو انسان آج آخرت میں نہ جیا ہو اس کے ليے آخرت کل کے دن بھی زندگی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ دوسرا نسان وہ ہے جو غیبی حقیقتوں میں گم رہا ہو۔ جس کی روح کو آخرت کی یاد میں لذت ملی ہو۔ جس کی غذا یہ رہی ہو کہ وہ خدا میں جيے اور خدا کی فضاؤں میں سانس لے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے ليے آخرت رزق کا دسترخوان بنے گی۔ وہ جنت کے باغوں میں اپنے ليے زندگی کا سامان حاصل کرلے گا۔ اس نے عالم غیب میں خدا کو پایا تھا اس ليے عالم شہود میں بھی وہ خدا کو پالے گا۔ خدا کی دنیا میں آدمی خداکو کیوں بھلا دیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ایسی نشانیوں کے ساتھ سامنے آتا ہے جو صرف سوچنے سے ذہن کی پکڑ میں آتی ہیں، جب کہ دنیا کی چیزیں آنکھوں کے سامنے اپنی تمام رونقوں کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ آدمی ظاہری چیزوں کی طرف جھک جاتا ہے اور خدا کی طرف اشارہ کرنے والی نشانیوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر ایسا ہر عمل دنیا کی قیمت پر آخرت کوچھوڑنا ہے۔ اور جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں آخرت کو چھوڑا وہ موت کے بعد والی زندگی میں بھی آخرت سے محروم رہے گا۔ اللہ جب ایک چیز کو حق کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائے اور وہ اس کو اہمیت نہ دیں، وہ اس کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کریں تو یہ دراصل خود خدا کو غیر اہم سمجھنا اوراس کے ساتھ غيرسنجیدہ معاملہ کرنا ہے۔دنیا میں حق کو نظر انداز کرنے سے آدمی کا کچھ بگڑتا نہیں، حق کی پشت پر جو خدائی طاقتیں ہیں وہ ابھی غیب میں ہونے کی وجہ سے اس کو نظر نہیں آتیں۔یہ صورت حال اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ جو لوگ اس طرح حق کو نظر انداز کریں وہ یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ خدا بھی آخرت کے دن انھیں نظر انداز کردے۔


Connections

  • Previous: 7_50
  • Next: 7_52
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes