Recitation

Next: 7_37


Arabic

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ


Urdu

اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے


English

But the ones who deny Our verses and are arrogant toward them - those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally


Tafsir — Bayan ul Quran

موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔ کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔


Connections

  • Previous: 7_35
  • Next: 7_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes