Recitation
Next: 7_21
Arabic
فَوَسۡوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ لِيُبۡدِيَ لَهُمَا مَا وُۥرِيَ عَنۡهُمَا مِن سَوۡءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيۡنِ أَوۡ تَكُونَا مِنَ ٱلۡخَٰلِدِينَ
Urdu
پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، “تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے
English
But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, “Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت نوح کی اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اندازِ دعوت بھی عین وہی تھا جو قرآن میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت نوح نے کائناتی واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کی۔ انہوں نے اجتماعی خطاب بھی کیا اور انفرادی گفتگوئیں بھی کیں۔ لوگوں کا اصلاح پر لانے کے لیے انہوں نے اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالی۔ مگر قوم آپ کی بات ماننے پر راضی نہ ہوئی۔ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے ان الفاظ میں کی ہے لَا تُعَظِّمُونَ اللهَ حَقَّ عَظَمَتِهِ (تفسیر الطبری، جلد 23 ، صفحہ 296 )۔ یعنی اللہ کی عظمت اس طرح نہیں مانتے جس طرح اس کی عظمت ماننا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح کی قوم اللہ کا اقرار کرتی تھی، مگر اس پر اللہ کی عظمت کا احساس اس طرح چھایا ہوا نہ تھا جس طرح کسی انسان پر چھایا ہوا ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی خدا پرستی کا اصل معیار ہے۔ جو شخص خدا کی عظمت میں جی رہا ہو وہ خدا پرست ہے۔ اور جس کا دل خدا کی عظمت کے احساس میں ڈوبا ہوا نہ ہو، وہ خدا پرست نہیں۔