Recitation

Next: 7_190


Arabic

۞هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ إِلَيۡهَاۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيفٗا فَمَرَّتۡ بِهِۦۖ فَلَمَّآ أَثۡقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ ءَاتَيۡتَنَا صَٰلِحٗا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ


Urdu

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے


English

It is He who created you from one soul and created from it its mate that he might dwell in security with her. And when he covers her, she carries a light burden and continues therein. And when it becomes heavy, they both invoke Allah, their Lord, “If You should give us a good [child], we will surely be among the grateful


Tafsir — Bayan ul Quran

کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔ مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔


Connections

  • Previous: 7_188
  • Next: 7_190
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes