Recitation
Next: 7_165
Arabic
وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
Urdu
اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ “تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے ” تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ “ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں
English
And when a community among them said, “Why do you advise [or warn] a people whom Allah is [about] to destroy or to punish with a severe punishment?” they [the advisors] said, “To be absolved before your Lord and perhaps they may fear Him
Tafsir — Bayan ul Quran
یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکرِ خداکے ليے خاص رکھیں۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج 31:14 )۔ مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے۔ تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے ليے ہوتاہے مگر وہ خود اپنے ليے کیا جاتاہے۔ اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھهر جائے گا، وہ اپني اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے ليے اور سخت کردیاگیا۔ بحر قلزم کی مشرقي خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آتیں۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔ یہ یہود کے ليے بڑی سخت آزمائش تھی۔ گویا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے ليے باقی رہ گیا۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کرنے لگے۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں۔ اس کے بعد وہ حوض کا منھ بند کرکے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے۔ پھر اگلے دن اتوار کو جاکر ان کو پکڑ لیتے۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے ليے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے اور نا جائز ذریعہ کے سوا اس کے ليے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔