Recitation

Next: 7_151


Arabic

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗا قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُونِي مِنۢ بَعۡدِيٓۖ أَعَجِلۡتُمۡ أَمۡرَ رَبِّكُمۡۖ وَأَلۡقَى ٱلۡأَلۡوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأۡسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيۡهِۚ قَالَ ٱبۡنَ أُمَّ إِنَّ ٱلۡقَوۡمَ ٱسۡتَضۡعَفُونِي وَكَادُواْ يَقۡتُلُونَنِي فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ ٱلۡأَعۡدَآءَ وَلَا تَجۡعَلۡنِي مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ


Urdu

ادھر سے موسیٰؑ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا آتے ہی اس نے کہا “بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟” اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھا ئی (ہارونؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ہارونؑ نے کہا “اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر


English

And when Moses returned to his people, angry and grieved, he said, “How wretched is that by which you have replaced me after [my departure]. Were you impatient over the matter of your Lord?” And he threw down the tablets and seized his brother by [the hair of] his head, pulling him toward him. [Aaron] said, “O son of my mother, indeed the people oppressed me and were about to kill me, so let not the enemies rejoice over me and do not place me among the wrongdoing people


Tafsir — Bayan ul Quran

بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔ حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔


Connections

  • Previous: 7_149
  • Next: 7_151
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes