Recitation

Next: 7_143


Arabic

۞وَوَٰعَدۡنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيۡلَةٗ وَأَتۡمَمۡنَٰهَا بِعَشۡرٖ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرۡبَعِينَ لَيۡلَةٗۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخۡلُفۡنِي فِي قَوۡمِي وَأَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ


Urdu

ہم نے موسیٰؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی موسیٰؑ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا کہ “میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا


English

And We made an appointment with Moses for thirty nights and perfected them by [the addition of] ten; so the term of his Lord was completed as forty nights. And Moses said to his brother Aaron, “Take my place among my people, do right [by them], and do not follow the way of the corrupters


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت ہارون موسی کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلاً حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک كيے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے، نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔ حضرت موسی کو مصر میں دعوتی احکام ديے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلاکر قانونی احکام ديے گئے۔ اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو درست کریں،اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید وآخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں ، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہوجاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔ حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لیے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا أَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ 7:142 ) )اس سے معلوم ہوتاہے کہ اجتماعی سربراہ کے ليے اپنی ذمہ دایوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ وہ ہے — اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہيے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو ازروئے عدل اس سے چھینا جانا چاہیے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار ’’مفسدین‘‘ کی پیروی کرنے لگے ۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔ حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا— انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔


Connections

  • Previous: 7_141
  • Next: 7_143
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes