Recitation

Next: 7_131


Arabic

وَلَقَدۡ أَخَذۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ


Urdu

ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے


English

And We certainly seized the people of Pharaoh with years of famine and a deficiency in fruits that perhaps they would be reminded


Tafsir — Bayan ul Quran

کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔ ’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔ آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔


Connections

  • Previous: 7_129
  • Next: 7_131
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes