Recitation
Next: 68_44
Arabic
خَٰشِعَةً أَبۡصَٰرُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَٰلِمُونَ
Urdu
اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)
English
Their eyes humbled, humiliation will cover them. And they used to be invited to prostration while they were sound
Tafsir — Bayan ul Quran
قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔