Recitation

Next: 60_3


Arabic

إِن يَثۡقَفُوكُمۡ يَكُونُواْ لَكُمۡ أَعۡدَآءٗ وَيَبۡسُطُوٓاْ إِلَيۡكُمۡ أَيۡدِيَهُمۡ وَأَلۡسِنَتَهُم بِٱلسُّوٓءِ وَوَدُّواْ لَوۡ تَكۡفُرُونَ


Urdu

اُن کا رویہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پا جائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ


English

If they gain dominance over you, they would be to you as enemies and extend against you their hands and their tongues with evil, and they wish you would disbelieve


Tafsir — Bayan ul Quran

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی طرف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ نے اس کا پورا منصوبہ نہایت خاموشی کے ساتھ بنایا تاکہ مکہ والے مقابلہ کی تیاری نہ کرسکیں۔ اس وقت ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے اس منصوبہ کو ایک خط میں لکھا اور اس کو خفیہ طور پر مکہ والوں کے نام روانہ کردیا۔ تاکہ مکہ والے ان سے خوش ہوجائیں اور ان کے اہل وعیال کو نہ ستائیں جو مکہ میں مقیم ہیں۔ مگر وحی کے ذریعہ آپ كو اس کی اطلاع ہوگئی اور قاصد کو راستہ ہی میں پکڑ لیا گیا۔ اس قسم کا ہر فعل ایمانی تقاضے کے خلاف ہے۔ جب یہ صورت حال ہو کہ اسلام اور غیر اسلام کے الگ الگ محاذ بن جائیں تو اس وقت اہل اسلام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ غیر اسلامی محاذ سے دل چسپی کا تعلق توڑ لیں۔ خواہ غیر اسلامی محاذ میں ان کے عزیز اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ حق کو ماننا اور حق کا انکار کرنے والوں سے قلبی تعلق رکھنا دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔


Connections

  • Previous: 60_1
  • Next: 60_3
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes