Recitation
Next: 6_60
Arabic
۞وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ
Urdu
اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو خشک و ترسب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے
English
And with Him are the keys of the unseen; none knows them except Him. And He knows what is on the land and in the sea. Not a leaf falls but that He knows it. And no grain is there within the darknesses of the earth and no moist or dry [thing] but that it is [written] in a clear record
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کرلیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لیے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مدد گار اور سفارشی بن جائے۔ کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصو رقائم کرلیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کرکے اپنے چھوٹے پن کی تلافي کرسکے۔ کبھی اپني سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتاہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیاجاسکے۔ مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنھوںنے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کررکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لیے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کرکے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لیے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیںکہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جو ان چیزوں سے خالی ہیں وہ اس لیے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنيا ہے۔ اس لیے یہاں دیکھنے کي چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جوواقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہوجائے گا۔