Recitation

Next: 6_139


Arabic

وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ


Urdu

کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، ا نہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے، عنقریب اللہ انہیں ان افترا پرداز یوں کا بدلہ دے گا


English

And they say, “These animals and crops are forbidden; no one may eat from them except whom we will,” by their claim. And there are those [camels] whose backs are forbidden [by them] and those upon which the name of Allah is not mentioned - [all of this] an invention of untruth about Him. He will punish them for what they were inventing


Tafsir — Bayan ul Quran

قدیم عرب کے لوگ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ مگر عملاً ان کے یہاں جو مذہب تھا وہ ایک خود ساختہ مذہب تھا جو ان کے پیشواؤں نے گھڑ کر ان کے درمیان رائج کردیا تھا۔ پیداوار اور چوپایوں کی جو نذریں خدایا اس کے شریکوں کے نام پر پیش ہوتیں ان کے لیے ان کے یہاں بہت سی کڑی پابندیاں تھیں۔ مثلاً بحیرہ یا سائبہ (جانوروں) کو اگر ذبح کیا اور ا س کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلا تو اس کا گوشت صرف مرد کھائیں، عورتيں نه كھائيں۔ اور اگر بچہ مردہ حالت میں ہو تو اس کو مرد عورت دونوں کھاسکتے ہیں۔ اسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہونا یا ان کے اوپر بوجھ لادنا ان کے نزدیک حرام تھا۔ بعض جانوروں کی نسبت ان کا عقیدہ تھا کہ ان پر سوار ہوتے وقت یا ان کو ذبح کرتے وقت یا ان کا د ودھ نکالتے وقت خدا کانام نہیں لینا چاہیے۔ ایسے لوگ دین کے اصل تقاضے (اللہ سے تعلق اور آخرت کی فکر)سے انتہائی حد تک دور ہوتے ہیں۔وہ روزانہ اللہ کے حدود کو توڑتے رہتے ہیں۔ البتہ کچھ غیر متعلق ظاہری چیزوں میں تشدد کی حد تک قواعد وضوابط کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ شیطان کی نہایت گہری چال ہے۔ وہ لوگوں کو اصل دین سے دور کرکے کچھ دوسری چیزوں کو دین کے نام پر ان کے درمیان جاری کردیتا ہے اور ان میں شدت کی نفسیات پیدا کرکے آدمی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیتاہے کہ وہ کمالِ احتیاط کی حد تک خدا کے دین پر قائم ہے۔ عبادت کے ظواہر میںتشدد بھی اسی خاص نفسیات کی پیداوار ہے۔ آدمی خشوع اور تضرع سے خالی ہوتا ہے اور بعض ظاہری آداب کا شدید التزام کرکے سمجھتا ہے کہ اس نے کمال ادائیگی کی حد تک عبادت کا فعل انجام دے دیا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی گمراہی اس سے واضح ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے قتلِ اولاد جیسے وحشیانہ فعل کو درست سمجھ لیا۔ وہ خدا کے پاکیزہ رزق سے لوگوں کو محروم کردیتے ہیں۔ وہ معمولی مسائل پر لڑتے رہتے ہیں اور ان بڑی چیزوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جن کی اہمیت کو عقل عام کے ذریعے سمجھا جاسکتاہے۔


Connections

  • Previous: 6_137
  • Next: 6_139
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes