Recitation
Next: 59_10
Arabic
وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلۡإِيمَٰنَ مِن قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّونَ مَنۡ هَاجَرَ إِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمۡ حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
Urdu
(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دارالحجرت میں مقیم تھے یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے اِن کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دیدیا جائے اُس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں
English
And [also for] those who were settled in al-Madinah and [adopted] the faith before them. They love those who emigrated to them and find not any want in their breasts of what the emigrants were given but give [them] preference over themselves, even though they are in privation. And whoever is protected from the stinginess of his soul - it is those who will be the successful
Tafsir — Bayan ul Quran
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی جلا وطنی کا اعلان کیا تو منافقین ان کی حمایت پر آگئے۔ انہوں نے بنونضیر سے کہا کہ تم اپنی جگہ جمے رہو، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ مگر منافقین کی یہ باتیں محض ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے تھیں۔ وہ اس پیشکش میں ہرگز مخلص نہ تھے۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے بنو نضیر کو گھیر لیا تو منافقین میں سے کوئی بھی ان کی مدد پر نہ آیا — مفاد پرست گروہ کا ہر زمانہ میں یہی کردار رہا ہے۔