Recitation
Next: 54_25
Arabic
فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٗا مِّنَّا وَٰحِدٗا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٍ
Urdu
اور کہنے لگے “ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے
English
And said, “Is it one human being among us that we should follow? Indeed, we would then be in error and madness
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔