Recitation
Next: 52_49
Arabic
وَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعۡيُنِنَاۖ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ
Urdu
اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو
English
And be patient, [O Muhammad], for the decision of your Lord, for indeed, you are in Our eyes. And exalt [Allah] with praise of your Lord when you arise
Tafsir — Bayan ul Quran
’’ خدا کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے كه مخاطب کی طرف سے ہر قسم کی ناگوار باتوں کے پیش آنے کے باوجود دعوت کا کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک خود خدا کے نزدیک اس کی حد نہ آجائے۔ جب یہ حد آتی ہے تو اس وقت خدا کا فیصلہ ظاہر ہو کر حق اور ناحق کے فرق کو عملی طور پر ظاہر کر دیتا ہے جس کواس سے پہلے صرف نظری طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس پوری مدت میں داعی مکمل طور پر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے ۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ اور یہ یقین رکھے کہ اللہ اس کو ہر آن اپنی حفاظت میں ليے ہوئے ہے۔