Recitation

Next: 51_49


Arabic

وَٱلۡأَرۡضَ فَرَشۡنَٰهَا فَنِعۡمَ ٱلۡمَٰهِدُونَ


Urdu

زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں


English

And the earth We have spread out, and excellent is the preparer


Tafsir — Bayan ul Quran

’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔


Connections

  • Previous: 51_47
  • Next: 51_49
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes