Recitation

Next: 5_53


Arabic

فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ


Urdu

تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں “ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں” مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے


English

So you see those in whose hearts is disease hastening into [association with] them, saying, “We are afraid a misfortune may strike us.” But perhaps Allah will bring conquest or a decision from Him, and they will become, over what they have been concealing within themselves, regretful


Tafsir — Bayan ul Quran

عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف عرب کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ وهاں کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوںپر بٹھا رکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ اسلام کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود ونصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہوتو یہود ونصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لیے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کررہے تھے، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ جو شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہوتو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔ کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لیے اس کو کسی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ ایسے مواقع آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کا ثبوت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان ومال کا خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر استقامت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر استقامت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کرلیا۔ دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کرکے ارادہ کا ثبوت دے دے، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھا دے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مگر جو شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا یک طرفہ طورپر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔


Connections

  • Previous: 5_51
  • Next: 5_53
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes