Recitation

Next: 5_6


Arabic

ٱلۡيَوۡمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حِلّٞ لَّكُمۡ وَطَعَامُكُمۡ حِلّٞ لَّهُمۡۖ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِيٓ أَخۡدَانٖۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ


Urdu

آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشر طیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں اُن کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا


English

This day [all] good foods have been made lawful, and the food of those who were given the Scripture is lawful for you and your food is lawful for them. And [lawful in marriage are] chaste women from among the believers and chaste women from among those who were given the Scripture before you, when you have given them their due compensation, desiring chastity, not unlawful sexual intercourse or taking [secret] lovers. And whoever denies the faith - his work has become worthless, and he, in the Hereafter, will be among the losers


Tafsir — Bayan ul Quran

وہ تمام چیزیں جن کو فطرت کی نگاہ پاک اور ستھرا محسوس کرتی ہے۔ اور وہ تمام جانور جو اپنی سرشت کے لحاظ سے انسان کی سرشت سے مناسبت رکھتے ہیں انسان کے لیے حلال ہیں۔ البتہ یہ شرط ہے کہ خارجی سبب سے ان کے اندر کوئی شرعی یا طبی خرابي نہ پیدا ہوگئي ہو۔ تاہم اس اصول کو انسان محض اپنی عقل سے پوری طرح متعین نہیں کرسکتا۔ اس لیے ا س کو تعین کے ساتھ بھی بیان کردیا گیا۔ سدھائے ہوئے جانور کا شکار بھی اسی لیے حلال ہے کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھتا ہے۔ گویا اس نے آدمی کی خو سیکھ لی۔ ایسا جانور گویا شکار کے معاملے میں خود آدمی کا قائم مقام بن گیا۔ حلال وحرام کا قانون خواہ کتنی هي تفصیل کے ساتھ بتا دیا جائے بالآخر آدمی کا اپنا ارادہ ہی ہے جو اس کو کسی چیز سے روکتا ہے اور کسی چیز کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کے اوپر اصل نگراں قانون کی دفعات نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اگر آدمی خود نہ چاہے تو قانون کو مانتے ہوئے وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرلے گا۔ یہ صرف اللہ کا خوف ہے جو آدمی کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ملحوظ رکھے۔ اسی لیے حرام وحلال کا قانون بتاتے ہوئے کہاگیا اللہ سے ڈرو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ مسلمان عورت کے لیے کسی حال میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم مرد سے نکاح کرلے۔ مگر مسلمان مردوں کو مخصوص شرائط کے تحت اجازت دی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس گنجائش کی حکمت یہ ہے کہ عورت فطرۃً تاثر پذیر مزاج رکھتی ہے۔ اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ عملی زندگی میں آنے کے بعد اپنے مسلم شوہر اور مسلم معاشرہ کا اثر قبول کرلے اور اس طرح نکاح اس کے لیے اسلام میں داخلہ کا ذریعہ بن جائے۔ ’’جو شخص ایمان سے انکار کرے تو اس کا عمل ضائع ہوگیا‘‘، یعنی ایمان کے بغیر عمل کی کوئی حقیقت نہیں۔ عمل وہی ہے جو خالص اللہ کے لیے کیا جائے۔ جو عمل اللہ کے لیے نہ ہو وہ خود اپنے لیے ہوتا ہے۔ پھر اپنی خاطر كيے ہوئے عمل کی قیمت اللہ کیوں دے گا۔


Connections

  • Previous: 5_4
  • Next: 5_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes