Recitation
Next: 5_14
Arabic
فَبِمَا نَقۡضِهِم مِّيثَٰقَهُمۡ لَعَنَّـٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوبَهُمۡ قَٰسِيَةٗۖ يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٖ مِّنۡهُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱصۡفَحۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
Urdu
پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں (پس جب یہ اِس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں
English
So for their breaking of the covenant We cursed them and made their hearts hard. They distort words from their [proper] usages and have forgotten a portion of that of which they were reminded. And you will still observe deceit among them, except a few of them. But pardon them and overlook [their misdeeds]. Indeed, Allah loves the doers of good
Tafsir — Bayan ul Quran
بنی اسرائیل سے ان کے پیغمبرکی معرفت خدا پرستانہ زندگی گزرانے کا عہد لیاگیا اور ان کے بارہ قبائل سے بارہ سردار ان کی نگرانی کے لیے مقرر کیےگئے۔ بنی اسرائیل سے جو عہد لیاگیا وہ یہ تھا کہ وہ نماز کے ذریعے اپنے کو اللہ والا بنائیں۔ وہ زکوٰۃ کی صورت میں بندوں کے حقوق ادا کریں۔ پیغمبروں کا ساتھ دے کر وہ اپنے کو اللہ کی پکار کی جانب کھڑا کریں اور اللہ کے دین کی جدوجہد میں اپنا اثاثہ خرچ کریں۔ ان کاموں کی ادائیگی اور اپنے درمیان ان کی نگرانی کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے بعد ہی وہ خدا کی نظر میں اس کے مستحق تھے کہ خدا ان کا ساتھی ہو۔ وہ ان کو پاک صاف کرکے اس قابل بنائے کہ وہ جنت کی لطیف فضاؤں میں داخل ہوسکیں۔ جنت کسی کو عمل سے ملتی ہے، نہ کہ کسی قسم کے نسلی تعلق سے۔ اس عہد میں جن اعمال کا ذکر ہے یہی دین کے اساسی اعمال ہیں۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو خدا اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ کے دائیں بائیں مڑ جاتی ہیں۔ اب یہ ہوتا ہے کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دین کا تصور بدل دیا جاتا ہے۔ عبادت کے نام پر غیر متعلق بحثیں شروع ہوجاتی ہیں۔ نجات کے ایسے راستے تلاش کرليے جاتے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا كيے بغیر آدمی کو منزل تک پہنچا دیں۔ دعوتِ حق کے نام پر ان کے یہاں بے معنیٰ قسم کے دنیوی ہنگامے جاری ہوجاتے ہیں۔ وہ دنیوی اخراجات کی بہت سی مدیں بناتے ہیں اور انھیں کو دین کے لیے خرچ کا نام دے دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ اپنے دنیوی مصالح کے مطابق ایک دین گھڑتے ہیں اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگتے ہیں۔ جب کوئی گروہ بگاڑ کی اس نوبت تک پہنچتا ہے تو خدا اپنی توجہ اس سے ہٹا لیتاہے۔ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے تاکہ ان کو پکڑ کر خدا کی عدالت میں پہنچا دے۔