Recitation
Next: 49_4
Arabic
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصۡوَٰتَهُمۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمۡتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ لِلتَّقۡوَىٰۚ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٌ عَظِيمٌ
Urdu
جو لوگ رسول خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، اُن کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم
English
Indeed, those who lower their voices before the Messenger of Allah - they are the ones whose hearts Allah has tested for righteousness. For them is forgiveness and great reward
Tafsir — Bayan ul Quran
اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔