Recitation

Next: 49_13


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱجۡتَنِبُواْ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمٞۖ وَلَا تَجَسَّسُواْ وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٞ رَّحِيمٞ


Urdu

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے


English

O you who have believed, avoid much [negative] assumption. Indeed, some assumption is sin. And do not spy or backbite each other. Would one of you like to eat the flesh of his brother when dead? You would detest it. And fear Allah; indeed, Allah is Accepting of repentance and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک آدمی کسی شخص کے بارے میں بدگمان ہوجائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ اس کی خوبیوں سے زیادہ وہ اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اس معاملہ میں چوکنا رہے۔ وہ بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔ آپ کو کسی سے بدگمانی ہوجائے تو آپ اس سے مل کر گفتگو کرسکتے ہیں۔ مگر یہ سخت غیر اخلاقی فعل ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی آدمی سے اس قسم کی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے تو وہ اپنی غلطی پر ڈھيٹ نہیں ہوگا۔ اس کا خوف خدا اس کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہہ کرے گا، وہ اپنی روش کو چھوڑ کر اللہ سے معافی کا طالب بن جائے گا۔


Connections

  • Previous: 49_11
  • Next: 49_13
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes