Recitation

Next: 48_28


Arabic

لَّقَدۡ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءۡيَا بِٱلۡحَقِّۖ لَتَدۡخُلُنَّ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمۡ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَۖ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُواْ فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتۡحٗا قَرِيبًا


Urdu

فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا انشاءاللہ تم ضرور مسجد حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہو گے، اپنے سر منڈواؤ گے اور بال ترشواؤ گے، اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا وہ اُس بات کو جانتا تھا جسے تم نہ جانتے تھے اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اُس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی


English

Certainly has Allah showed to His Messenger the vision in truth. You will surely enter al-Masjid al-Haram, if Allah wills, in safety, with your heads shaved and [hair] shortened, not fearing [anyone]. He knew what you did not know and has arranged before that a conquest near [at hand]


Tafsir — Bayan ul Quran

حدیبیہ کا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خواب پر ہوا تھا۔ آپ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا فرما رہے ہیں۔ اس خواب کو لوگوں نے خدا کی بشارت سمجھا اور مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر حدیبیہ میں قریش نے روکا اور بالآخر عمرہ ادا کیے بغیر لوگوں کو واپس آنا پڑا۔ اس سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ کیا پیغمبر کا خواب سچا نہ تھا۔ مگر یہ محض شبہ تھا۔ کیونکہ خواب میں یہ صراحت نہ تھی کہ عمرہ اسی سال ہوگا۔ چنانچہ خود معاہدہ کی شرائط کے مطابق اگلے سال ذوالقعدہ 7 ھ میں یہ عمرہ پورے امن و امان کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃ القضاء کہا جاتا ہے۔ اس سال عمرہ کا التوا ایک عظیم مصلحت کی قیمت پر ہوا تھا۔ یہ مصلحت کہ اس کے ذریعہ قریش سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجۃً دعوت کے کام کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ یہ خود ایک فتح تھی۔ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے علم بردارانِ شرک کے اوپر آخری اور کلی فتح کا دروازہ کھلا۔


Connections

  • Previous: 48_26
  • Next: 48_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes