Recitation
Next: 48_17
Arabic
قُل لِّلۡمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ قَوۡمٍ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ تُقَٰتِلُونَهُمۡ أَوۡ يُسۡلِمُونَۖ فَإِن تُطِيعُواْ يُؤۡتِكُمُ ٱللَّهُ أَجۡرًا حَسَنٗاۖ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ كَمَا تَوَلَّيۡتُم مِّن قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا
Urdu
اِن پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہو جائیں گے اُس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اُسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا
English
Say to those who remained behind of the bedouins, “You will be called to [face] a people of great military might; you may fight them, or they will submit. So if you obey, Allah will give you a good reward; but if you turn away as you turned away before, He will punish you with a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔ اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔