Recitation
Next: 47_31
Arabic
وَلَوۡ نَشَآءُ لَأَرَيۡنَٰكَهُمۡ فَلَعَرَفۡتَهُم بِسِيمَٰهُمۡۚ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِي لَحۡنِ ٱلۡقَوۡلِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ أَعۡمَٰلَكُمۡ
Urdu
ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لو گے اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے
English
And if We willed, We could show them to you, and you would know them by their mark; but you will surely know them by the tone of [their] speech. And Allah knows your deeds
Tafsir — Bayan ul Quran
منافقین کی بیماری یہ تھی کہ ان کے سینوں میں حسد (ضغن) تھا۔ منافق مسلمانوں کو اپنے مخلص برادران دین سے یہ حسد کیوں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام کی ہر ترقی انہیں مخلص مسلمانوں کے حصہ میں جاتی ہوئی نظر آتی تھی۔ یہ چیز منافقین کے لیے بے حد شاق تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ ہم ایسی مہم میں اپنا جان و مال کیوں کھپائیں جس میں دوسروں کی حیثیت بڑھے، جس میں دوسروں کو بڑائی حاصل ہوتی ہو۔ منافقین اپنے ظاہری رویہ میں اپنی اس اندرونی حالت کو چھپاتے تھے مگر سمجھ دار لوگوں کے لیے وہ چھپا ہوا نہ تھا۔ منافقین کا مصنوعی لہجہ، ان کی درد سے خالی آواز بتا دیتی تھی کہ اسلام سے ان کا تعلق محض دکھاوے کا تعلق ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں قلبی تعلق۔