Recitation
Next: 47_28
Arabic
فَكَيۡفَ إِذَا تَوَفَّتۡهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ
Urdu
پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور اِن کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے؟
English
Then how [will it be] when the angels take them in death, striking their faces and their backs
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ نصیحت کو کتنا ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔ دین کا کوئی ایسا حکم سامنے آئے جس میں آدمی کو اپنی خواہشات اور مفادات کی قربانی دینی ہو تو شیطان فوراً آدمی کو کوئی جھوٹاعذر سمجھا دیتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں مہلت امتحان کی وجہ سے آدمی کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس جھوٹے عذر کو عملاً بھی اختیار کرلے۔ مگر یہ سب کچھ صرف چند دنوں تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی ساری صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ یہاں نفاق کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ مدینہ کے ان منافقین کو ارتداد کی مقررہ سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فکری جرم ہے، اور فکری انحراف کرنے والا تبلیغ ودعوت کا موضوع ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا موضوع۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب حکمتِ اسلام کا مضمون ’’مرتد اور ارتداد‘‘)