Recitation
Next: 47_21
Arabic
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُورَةٞۖ فَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ مُّحۡكَمَةٞ وَذُكِرَ فِيهَا ٱلۡقِتَالُ رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ نَظَرَ ٱلۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡمَوۡتِۖ فَأَوۡلَىٰ لَهُمۡ
Urdu
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو افسوس اُن کے حال پر
English
Those who believe say, “Why has a surah not been sent down? But when a precise surah is revealed and fighting is mentioned therein, you see those in whose hearts is hypocrisy looking at you with a look of one overcome by death. And more appropriate for them [would have been]
Tafsir — Bayan ul Quran
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔ جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرے اور جب جہاد واقعۃً پیش آجائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہو۔ سچے اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہروقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہے اور جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہوجائے تو اپنے عمل سے ثابت کردے کہ اس نے خدا کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا اس عہد میں وہ پورا اترا۔ منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ جہاں انہیں موقع ملتا ہے وہ فوراً شر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ حتی کہ جن مسلمانوں سے ان کی قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔