Recitation
Next: 47_19
Arabic
فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗۖ فَقَدۡ جَآءَ أَشۡرَاطُهَاۚ فَأَنَّىٰ لَهُمۡ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرَىٰهُمۡ
Urdu
اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک اِن پر آ جائے؟ اُس کی علامات تو آ چکی ہیں جب وہ خود آ جائے گی تو اِن کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کونسا موقع باقی رہ جائے گا؟
English
Then do they await except that the Hour should come upon them unexpectedly? But already there have come [some of] its indications. Then what good to them, when it has come, will be their remembrance
Tafsir — Bayan ul Quran
زلزلہ کے آنے کی پیشگی اطلاع سے جو شخص چوکنّا نہ ہو وہ گویا زلزلہ کے آنے کا منتظر ہے۔ کیوں کہ ہر اگلا لمحہ زلزلہ کو اس کے قریب لا رہا ہے۔ اسی طرح قیامت کی چیتاونی سے آدمی متنبہ نہیں ہوتا مگر جب قیامت اس کے سر پر ٹوٹ پڑے گی تو وہ اعتراف کرنے لگے گا۔ مگر اس وقت کا اعتراف اسے فائدہ نہ دے گا۔ کیونکہ اعتراف وہ ہے جو پردہ اٹھنے سے پہلے کیا جائے۔ پردہ اٹھنے کے بعد اعتراف کی کوئی قیمت نہیں۔ استغفار در اصل احساس عجز کا ایک اظہار ہے۔ قیامت کی ہولناکی کا یقین اور اللہ کی قدرت اور اس کے ہر چیز سے باخبر ہونے کا احساس آدمی کے اندر جو نفسیاتی ہیجان پیدا کرتا ہے وہ ہر لمحہ لطیف کلمات میں ڈھلتا رہتا ہے۔ انہیں کلمات کو ذکر اور دعا اور استغفار کہا جاتا ہے۔