Recitation

Next: 46_8


Arabic

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٌ


Urdu

اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آ جاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے


English

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who disbelieve say of the truth when it has come to them, “This is obvious magic


Tafsir — Bayan ul Quran

قديم عرب ميں قرآن كے مخاطبين قرآن كے پيغام كو يه كهه كر رد كرديتے تھے كه يه همارے اكابر كے دين كے خلاف هے۔ اور چونكه لوگوں كے اوپر اكابر كي عظمت بيٹھي هوئي تھي وه اس كو مان كر قرآن كے پيغام سے متوحش هوجاتے تھے۔ مگر قرآن كا ايك اور پهلو تھا اور وه اس كا ادبي اعجاز تھا۔ هر عربي داں محسوس كررها تھا كه يه ايك غير معمولي كلام هے۔ اس دوسرے پهلو سے قرآن كي اهميت كو گھٹانے كے ليے انھوں نے كهه ديا كه يه ’’سحر‘‘ هے۔ يعني يه جادو بياني كا كرشمه هے نه كه حقيقت بياني كا كمال۔ يه صحيح هے كه بعض انسانوں كے كلام ميں غير معمولي ادبيت هوتي هے مگر انساني كلام كي ادبيت كي ايك حد هے۔ قرآن كا ادبي اعجاز اس حد سے بهت آگے هے۔ قرآن كي ادبي عظمت اس سے زياده هے كه اس كو انساني دماغ كا كرشمه كهاجاسكے۔ جب فريق ثاني ضد پر اتر آئے تو اس وقت ايك سنجيده انسان يه كرتا هے كه وه يه كهه كر چپ هوجاتا هے كه ميرا اور تمھارا معامله الله كے حوالے هے۔ تاهم يه پسپائي نهيں بلكه ايك اقدامي تدبير هے۔ آدمي جب ايك ضدي كے سامنے چپ هوجائے تو وه اپنے آپ كو اس كے سامنے سے هٹا كر خود اس كو اس كے ضمير كے سامنے كھڑا كرديتا هے تاكه اس كے اندر احساس كا كوئي درجه هو تو وه بیدار هوجائے۔


Connections

  • Previous: 46_6
  • Next: 46_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes