Recitation
Next: 46_35
Arabic
وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
Urdu
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا “کیا یہ حق نہیں ہے؟” یہ کہیں گے “ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)” اللہ فرمائے گا، “اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے
English
And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], “Is this not the truth?” They will say, “Yes, by our Lord.” He will say, “Then taste the punishment because you used to disbelieve
Tafsir — Bayan ul Quran
زمین و آسمان جیسی عظیم کائنات کا وجود میں آنا، اور پھر اربوں سال سے اس کا نہایت صحت اور ہم آہنگی کے ساتھ چلتے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا عظیم ترین طاقتوں کا مالک ہے۔ نیز یہ کہ اس کائنات کو وجود میں لانا اس کے لیے عجز کا باعث نہیں بنا۔ تخلیق کا عمل اگر اسے تھکا دیتا تو تخلیق کے بعد وہ اتنی صحت کے ساتھ چلتی ہوئی نظر نہ آتی۔ خدا کی عظیم طاقت و قدرت کا مظاہرہ جو کائنات کی سطح پر ہو رہا ہے وہ یہ یقین کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسانی نسل کو دوبارہ زندہ کرنا اور اس سے اس کے اعمال کا حساب لینا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے سامنے حقیقت آتی ہے مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں حقیقت کے انکار کا انجام فوراً سامنے نہیں آتا۔ آخرت میں انکار کا ہولناک انجام ہر آدمی کے سامنے ہوگا۔ اس وقت وہ انتہائی حد تک سنجیدہ ہوجائے گا اور اس حقیقت کا فوراً اقرار کرلے گاجس کو موجودہ دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔