Recitation
Next: 46_29
Arabic
فَلَوۡلَا نَصَرَهُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرۡبَانًا ءَالِهَةَۢۖ بَلۡ ضَلُّواْ عَنۡهُمۡۚ وَذَٰلِكَ إِفۡكُهُمۡ وَمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
Urdu
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
English
Then why did those they took besides Allah as deities by which to approach [Him] not aid them? But they had strayed from them. And that was their falsehood and what they were inventing
Tafsir — Bayan ul Quran
قریش کے سرداروں کو جو دنیوی مرتبہ حاصل تھا اس نے انہیں سرکش بنا رکھا تھا۔ ان کو یاد دلایا گیا کہ اپنے پڑوس کی قوم عاد کو دیکھو۔ اس کو تمدنی اعتبار سے تم سے بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل تھا۔ اس کے باوجودجب خدا کا فیصلہ آیا تو اس کی ساری بڑائی غارت ہو کر رہ گئی۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز اس کا سہارا نہ بن سکی جن کو انہوں نے اپنا سہارا سمجھ رکھا تھا۔ انسان آخر کار خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں چھوٹا ہونے والا ہے۔ مگر دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اسی دنیا میں آدمی کو بار بار دوسروں کے مقابلہ میں چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات خدا کی نشانیاں ہیں۔ آدمی اگر ان نشانیوں سے سبق لے تو آخرت کے دن چھوٹا کیے جانے سے پہلے وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کرلے۔ وہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں حقیقت پسند بن جائے۔ انسان کے سامنے مختلف قسم کے واقعات خدائی نشانی بن کر ظاہر ہوتے ہیں ۔ مگر وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ وہ ان سے سبق لینے کےلیے تیار نہیں ہوتا۔