Recitation
Next: 46_21
Arabic
وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبَٰتِكُمۡ فِي حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنۡيَا وَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهَا فَٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَفۡسُقُونَ
Urdu
پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا: “تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا
English
And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], “You exhausted your pleasures during your worldly life and enjoyed them, so this Day you will be awarded the punishment of [extreme] humiliation because you were arrogant upon the earth without right and because you were defiantly disobedient
Tafsir — Bayan ul Quran
ايك شخص كے سامنے حق آتا هے اور وه دنيوي مصلحت اور مادي مفاد كي خاطر اس كو اختيار نهيں كرتا۔ اس كا مطلب يه هے كه اس نے آخرت كے مقابله ميں دنيا كو اهميت دي۔ اس نے طيبات آخرت كے مقابله ميں طيبات دنيا كو اپنے ليے پسند كرليا۔ اسي طرح اپني بڑائي كا احساس آدمي كے لیے بے حد لذيذ چيز هے۔ جب ايسا هو كه اپني بڑائي كا گھروندا توڑ كر حق كو قبول كرنا هو اور آدمي اپني بڑائي كو بچانے كے ليے حق كو قبول نه كرے، اس وقت بھي گويا اس نے طيبات دنيا كو ترجيح دي اور طيبات آخرت كو ناقابل لحاظ سمجھ كر چھوڑ ديا۔ ايسے تمام لوگ جنھوں نے دنيا كي طيبات كي خاطر آخرت كي طيبات كو نظر انداز كيا وه آخرت ميں ذلّت كے عذاب سے دوچار هوں گے۔ جس كا عمل جس درجه كا هوگا اسي كے بقدر وه اپنے عمل كا انجام آخرت ميں پائے گا۔