Recitation
Next: 45_26
Arabic
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Urdu
اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو اِن کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو
English
And when Our verses are recited to them as clear evidences, their argument is only that they say, “Bring [back] our forefathers, if you should be truthful
Tafsir — Bayan ul Quran
’’هم كو زمانه كي گردش هلاك كرتي هے‘‘ عام لوگوں كا قول نهيں۔ اس طرح كي باتيں هميشه مخصوص افراد كرتے هيں۔ يه وه افراد هيں جو اپني ذهانت كي وجه سے اكثر سماج كے فكري نمائنده كي حيثيت حاصل كرليتے هيں۔ تاهم يه باتيں وه محض قياس كي بنياد پر كهتے هيں۔ وه كسي حقيقي علم كي بنياد پر ايسا نهيں كهتے۔ اس كے مقابله ميں پيغمبر جو بات كهتا هے اس كي بنياد ٹھوس حقيقت پر قائم هے۔ هم روزانه ديكھتے هيں كه ايك شخص نهيں تھا۔ پھر وه پيدا هو كر موجود هوگيا۔ اس كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ گويا يهاں هر آدمي كو موت كے بعد زندگي ملتي هے اور زندگي كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ يه اس بات كا قرينه هے كه جس طرح پهلي بار موت كے بعد زندگي هوئي، اسي طرح دوسري بار بھي موت كے بعد زندگي هوگي۔ اس سے واضح طورپر زندگي بعد موت كا ممكن هونا ثابت هوتا هے۔ اس كے بعد يه مطالبه كرنا غلط هے كه جو لوگ كل دوباره پيدا هونے والے هيں ان كو آج پيدا كركے دكھاؤ۔ كيوں كه موجوده دنيا امتحان كے ليے هے۔ اور اگر موجوده دنيا ميں اگلي دنيا كا حال دكھاديا جائے تو امتحان كي مصلحت باقي نهيں ره سكتي۔