Recitation
Next: 42_48
Arabic
ٱسۡتَجِيبُواْ لِرَبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۚ مَا لَكُم مِّن مَّلۡجَإٖ يَوۡمَئِذٖ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٖ
Urdu
مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا
English
Respond to your Lord before a Day comes from Allah of which there is no repelling. No refuge will you have that day, nor for you will there be any denial
Tafsir — Bayan ul Quran
موجوده دنيا ميں آدمي كا اصل امتحان يه هے كه جو صورت حال بھي اس كے سامنے آئے، وه اس ميں صحيح ردعمل پيش كرے۔ مگر انسان ايسا نهيں كرتا۔ اس كو جب كوئي كاميابي ملتي هے تو وه فخر وناز كي نفسيات ميں مبتلا هوجاتا هے۔ اورجب وه كسي مصيبت ميں پڑتا هے تو وه منفي جذبات كا اظهار كرنے لگتا هے۔ يهي وه لوگ هيں جو دعوت حق كے مقابله ميں صحيح رد عمل پيش نهيں كرپاتے۔ ان كا غير حقيقت پسندانه مزاج يهاں بھي ان كو غير حقيقت پسند بناديتاهے۔ دعوت حق كا صحيح رد عمل يه هے كه آدمي فوراً اس كي حقانيت كا اعتراف كرلے۔ مگر آدمي يه كرتاهے كه وه اس كو اپني ساكھ كا مسئله بنا ليتا هے۔ وه سمجھتا هے كه دعوت كو مان كر ميں اس كو پيش كرنے والے كے سامنے چھوٹا هوجاؤں گا۔ يه احساس اس كے ليے حق كو قبول كرنے كي راه ميں ركاوٹ بن جاتا هے۔ وه اس كي صداقت پر يقين كرنے كے باوجود اپني ذاتي مصلحتوں كي بنا پر اس كو نظر انداز كرديتا هے۔