Recitation

Next: 42_42


Arabic

وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَا عَلَيۡهِم مِّن سَبِيلٍ


Urdu

اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی


English

And whoever avenges himself after having been wronged - those have not upon them any cause [for blame]


Tafsir — Bayan ul Quran

ايمان جب حقيقي معنوں ميں كسي كو حاصل هوتا هے تو وه اس كے اندر انقلاب پيداكرتا هے۔ اس كے اندر ايك نئي شخصيت ابھرتي هے۔ يهاں ايك بندهٔ خدا كي جن خصوصيات كا ذكر هے وه سب وهي هيں جو اس ايماني شخصيت كے نتيجے ميں كسي كے اندر ظاهر هوتي هيں۔ ايسے شخص كے اندر حقيقتِ واقعه كے اعتراف كا مزاج پيداهوتا هے۔ وه خدا كے خدا هونے اور اپنے بنده هونے كي حيثيت كا اعتراف كرتے هوئے اس كے آگے جھك جاتا هے۔ خدا كي ايك پكار بلند هو تو اس كے ليے ناممكن هوجاتاهے كه وه اس پر لبيك نه كهے۔ ايمانی شعور اس كو صحيح اور غلط كے بارے ميں حساس بنا ديتا هے۔ وه وهي كرتا هے جو كرنا چاهئے اور وه نهيں كرتا جو نهيں كرنا چاهئے۔ اپني حيثيت واقعي كا اعتراف اس كے اندر تواضع پيدا كرتا هے جو اس سے غصه، ظلم اور سركشي كا مزاج چھين ليتا هے،يهي تواضع اس كو مجبور كرتا هے كه اجتماعي معاملات ميں وه دوسروں كے مشوره سے فائده اٹھائے وه محض اپني ذاتي رائے كي بنياد پر اقدام سے پرهيز كرے۔ دوسروں كے ساتھ اس كا رشته خير خواهي كا هوتاهے، نه كه ضد اور استحصال كا۔ايسا آدمي دوسروں كے خلاف كبھي جارحيت نهيں كرتا۔ دوسروں كے خلاف وه جب بھي اقدام كرتا هے تو دفاع كے طورپر كرتاهے اور اتنا هي كرتا هے جتنا ان كے ظلم كو روكنے كے ليے ضروري هو۔ وه عين اشتعال انگيز حالات ميں بھي اس كے لیے تيار رهتاهے كه لوگوں كو معاف كردے اور انھوں نے اس كےساتھ جو برائي كي هے اس كو بھول جائے۔ بندهٔ مومن يه سارے كام اپنے جذبهٔ ايمان كے تحت كرتاهے تاهم الله اس كي قدرداني اس طرح فرماتاهے كه اس كو اهلِ همت اور اولوالعزم كے خطاب سے نوازتا هے،اور اس كو ابدي نعمتوں كے باغ ميں داخل كرديتاهے۔


Connections

  • Previous: 42_40
  • Next: 42_42
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes