Recitation

Next: 42_23


Arabic

تَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا كَسَبُواْ وَهُوَ وَاقِعُۢ بِهِمۡۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ


Urdu

تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اُس وقت اپنے کیے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ اِن پر آ کر رہے گا بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے، یہی بڑا فضل ہے


English

You will see the wrongdoers fearful of what they have earned, and it will [certainly] befall them. And those who have believed and done righteous deeds will be in lush regions of the gardens [in Paradise] having whatever they will in the presence of their Lord. That is what is the great bounty


Tafsir — Bayan ul Quran

جب ايك بات خدا كي كتاب سے ثابت نه هو، اس كے باوجود آدمي اس كے حق هونے پر اصرار كرے تو اس كا مطلب يه هے كه وه دوسروں كو خدا كے برابر ٹھهرارها هے۔ وه خدا كے سوا دوسروں كو يه حق دے رها هے كه وه انسان كے لیے اس كا دين وضع كريں۔يه ايك بے حد سنگين بات هے۔ حقيقت يه هے كه ’’دين‘‘ كي نوعيت كي كوئي چيز مقرر كرنے كا حق صرف ايك خدا كو هے۔ خدا كے سوا كسي اور كو يه حق دينا كھلا هوا شرك هے۔ اور شرك ايك ايسا جرم هے جو خدا كے يهاں كسي طرح معاف هونے والا نهيں۔ ’’ميں تم سے كوئي بدله نهيں چاهتا مگر يه كه قرابت داري كي محبت‘‘ —يه بات پيغمبر كي زبان سے اس وقت كهلائي گئي جب كه آپ كے قبيله قريش كے لوگ آپ كي دعوت كي راه ميں سخت ترين ركا وٹيں ڈال رهے تھے۔ ان حالات ميں اس كا مطلب يه تھا كه اگر تم ميرا دين قبول نهيں كرتے تو نه كرو مگر كم از كم قرابت داري كا لحاظ كرتے هوئے اذيت رساني سے تو باز رهو۔ بالفاظ ديگر، اگر تم كو مجھ سے مذهبي اختلاف هے تو اپنے اختلاف ميں تم اخلاق اور شرافت كي سطح سے نه گر جاؤ۔ اس طرح گويا بالواسطه انداز ميں يه بتايا گيا كه آپ كي دعوت كے مخالفين صرف مخالفين نهيں هيںبلكه وه اخلاقي مجرم بھي هيں۔ وه اپنے آپ كو اخلاق كي سطح پر غلط ثابت كررهے هيں جس كي اهميت خود ان كے نزديك بھي مسلم هے۔


Connections

  • Previous: 42_21
  • Next: 42_23
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes