Recitation
Next: 41_48
Arabic
۞إِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِۚ وَمَا تَخۡرُجُ مِن ثَمَرَٰتٖ مِّنۡ أَكۡمَامِهَا وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ أَيۡنَ شُرَكَآءِي قَالُوٓاْ ءَاذَنَّـٰكَ مَامِنَّا مِن شَهِيدٖ
Urdu
اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، “ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے
English
To him [alone] is attributed knowledge of the Hour. And fruits emerge not from their coverings nor does a female conceive or give birth except with His knowledge. And the Day He will call to them, “Where are My ‘partners’?” they will say, “We announce to You that there is [no longer] among us any witness [to that]
Tafsir — Bayan ul Quran
درخت سے ايك پھل كا نكلنا يا ماں كے پيٹ سے ايك زنده وجود كا پيدا هونا اپني نوعيت كے اعتبار سے ويسا هي واقعه هے جيسا موجوده دنيا كے اندر سے آخرت كي دنيا كا برآمد هونا۔ پھل كيا هے، وه بے پھل كا پھل ميں تبديل هونا هے۔ انسان كيا هے، وه بے انسان كا انسان كي صورت اختيار كرنا هے۔ يهي آخرت كا معامله بھي هے۔ آخرت بھي دراصل غير آخرت كا آخرت ميں تبديل هونے كا دوسرا نام هے۔ پهلي قسم كي تبديلي هر روز همارے سامنے واقعه بن رهي هے۔ پھر اسي نوعيت كے ايك اور واقعه (موجوده دنيا كا آخرت ميں تبديل هونا) ناقابل قياس كيوں هو۔ آخرت كا دن حقيقتوں كے آخري ظهور كا دن هوگا۔ جب وه دن آئے گا تو تمام جھوٹي بنياديں ڈھ پڑيں گي جن پر لوگوں نے موجوده دنيا ميں اپني زندگيوں كو كھڑا كرركھا تھا۔