Recitation

Next: 41_28


Arabic

فَلَنُذِيقَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَذَابٗا شَدِيدٗا وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَسۡوَأَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ


Urdu

اِن کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ اِنہیں دیں گے


English

But We will surely cause those who disbelieve to taste a severe punishment, and We will surely recompense them for the worst of what they had been doing


Tafsir — Bayan ul Quran

وَٱلْغَوْا۟ فِيهِ کی تشریح حضرت عبد اللہ بن عباس نے عَيِّبُوهُ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 174 )کے لفظ سے کی ہے۔ یعنی قرآن اور صاحب قرآن میں عیب لگاؤ اور اس طرح لوگوں کو اس سے دور کردو۔ کسی بات یا کسی شخص کے بارے میں اظہار رائے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، دوسرا تعییب۔ تنقید کا مطلب ہے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔ اس کے برعکس، تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو مطعون کرے۔ تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے۔ مگر تعییب کا طریقہ اہلِ کفر کا طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ تعییب کا طریقہ خدا کی نشانیوں کا انکار ہے۔ کیوں کہ ہر سچی دلیل خدا کی ایک نشانی ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں اور عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کرکے اس کو دبانا چاہیں وہ گویا خدا کی نشانی کا انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت میں نہایت سخت سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔


Connections

  • Previous: 41_26
  • Next: 41_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes