Recitation

Next: 41_16


Arabic

فَأَمَّا عَادٞ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَقَالُواْ مَنۡ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةًۖ أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَهُمۡ هُوَ أَشَدُّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ


Urdu

عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے “کون ہے ہم سے زیادہ زور آور” اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے


English

As for ‘Aad, they were arrogant upon the earth without right and said, “Who is greater than us in strength?” Did they not consider that Allah who created them was greater than them in strength? But they were rejecting Our signs


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں زمین وآسمان کی عظمتیں اس کی بڑائی کی نفی کررہی ہیں۔ جہاں موت کا واقعہ ہر روز انسان کو حقیر اور بے زور ثابت کررہا ہے۔ اس کے باوجود آدمی بڑا بنتا ہے۔ پھر بھی وہ اس گمان میں رہتا ہے کہ وہ زور والا ہے۔ خدابار بار حقیقت کا اعلان کراتا ہے۔ وہ بار بار انسان کی بڑائی کے دعوے کو باطل ثابت کررہا ہے۔ مگر کوئی اس وقت تک نصیحت نہیں لیتا جب تک اسے مٹا نہ دیا جائے۔ عاد وثمود اور دوسری قوموں کے کھنڈر اسی کی مثال ہیں۔ انھوں نے جن دنوں کو اپنے ليے مبارک سمجھ رکھا تھا وہی دن خدا کے حکم سے ان کےلیے منحوس دن بن کررہ گئے۔


Connections

  • Previous: 41_14
  • Next: 41_16
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes