Recitation
Next: 41_12
Arabic
ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٞ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡأَرۡضِ ٱئۡتِيَا طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا قَالَتَآ أَتَيۡنَا طَآئِعِينَ
Urdu
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دھواں تھا اُس نے آسمان اور زمین سے کہا “وجود میں آ جاؤ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو” دونوں نے کہا “ہم آ گئے فرمانبرداروں کی طرح
English
Then He directed Himself to the heaven while it was smoke and said to it and to the earth, “Come [into being], willingly or by compulsion.” They said, “We have come willingly
Tafsir — Bayan ul Quran
دعوت حق کا انکار خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ انکار اگر پیغمبر کی دعوت کے مقابلہ میں ہو تو اس کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ عاد و ثمود وغیرہ قوموں کے ساتھ پیش آیا۔اور اگر عام داعیوں کا معاملہ ہو تو ان کے انکار کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا۔ دعوت حق کا اصل نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انسان خدا کا عبادت گزار بنے۔ وہ غیراللہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ سے اپنے خوف و محبت کے جذبات وابستہ کرے۔ مگر ہر دور میں ایسا ہو ا کہ پیغمبر کی شخصیت ان کے معاصرین کو اس سے کم نظر آئی کہ خدا انہیں اپنے پیغام کی پیغام رسانی کےلیے چنے۔ اس ليے انھوں نے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔