Recitation
Next: (End of Surah)
Arabic
فَلَمۡ يَكُ يَنفَعُهُمۡ إِيمَٰنُهُمۡ لَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَاۖ سُنَّتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ فِي عِبَادِهِۦۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
Urdu
مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑ گئے
English
But never did their faith benefit them once they saw Our punishment. [It is] the established way of Allah which has preceded among His servants. And the disbelievers thereupon lost [all]
Tafsir — Bayan ul Quran
علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم جس سے دنیا کی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔ دوسرا علم وہ ہے جو آخرت کی کامیابی کا راستہ بتاتا ہے۔ جن لوگوںکے پاس دنیا کا علم ہو ان کے علم کا شاندار نتیجہ فوری طور پر دنیا کی ترقیوں کی صورت میں سامنے آجاتاہے۔ اس کے برعکس، جس شخص کے پاس آخرت کا علم ہو اس کے علم کے نتائج فوری طور پر محسوس شکل میں سامنے نہیں آتے۔ یہ فرق ان لوگوں کے اندر برتری کی نفسیات پیدا کردیتاہے جو دنیا کا علم رکھتے ہوں۔ چنانچہ ایسی قوموں کے پاس جب ان کے پیغمبر آئے تو انھوںنے اپنے کو زیادہ سمجھا اور پیغمبر کو کم خیال کیا۔ حتی کہ وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ مگر اللہ نے ان قوموں کو ان کی تمام قوتوں اور شاندار ترقیوں کے باوجود ہلاک کردیا۔ اب ان کے تاریخی آثار یا تو کھنڈر کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کےلیے ایک تاریخی مثال قائم کردی کہ — مستقل کامیابی کا راز علم آخرت میں ہے، نہ کہ علم دنیا میں۔ ان قوموں نے ابتداء ً اپنے پیغمبروں کا انکار کیا۔ پیغمبروں کے پاس دلیل کی قوت تھی۔ مگر یہ قومیں دلیل کی قوت کے آگے جھکنے کےلیے تیار نہ ہوئیں۔ آخر کارخدا نے عذاب کی زبان میں انھیں امر واقعی سے آگاہ کیا۔ اس وقت وہ لوگ جھک کر اقرار کرنے لگے۔ مگر یہ اقرار ان کے کام نہ آیا۔ کیوں کہ اقرار وہ مطلوب ہے جو دلیل کی بنیاد پر ہو۔ اس اقرار کی کوئی قیمت نہیں جو عذاب کو دیکھ کر کیا جائے۔
Connections
- Previous: 40_84
- Next: (End of Surah)
- Thematic: (add links here)