Recitation
Next: 40_38
Arabic
أَسۡبَٰبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ كَٰذِبٗاۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِۚ وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِي تَبَابٖ
Urdu
آسمانوں کے راستوں تک، اور موسیٰؑ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں مجھے تو یہ موسیٰؑ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے” اس طرح فرعون کے لیے اس کی بد عملی خوشنما بنا دی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا فرعون کی ساری چال بازی (اُس کی اپنی) تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی
English
The ways into the heavens - so that I may look at the deity of Moses; but indeed, I think he is a liar.” And thus was made attractive to Pharaoh the evil of his deed, and he was averted from the [right] way. And the plan of Pharaoh was not except in ruin
Tafsir — Bayan ul Quran
فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے جو بات کہی وہ کوئی سنجیدہ بات نہیں تھی بلکہ محض ایک وقتی تدبیر (کید) کے طور پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ رجل مومن کی معقول اور مدلّل تقریر سے دربار کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، اس ليے اس نے چاہا کہ ایک شوشہ کی بات نکالے تاکہ حضرت موسیٰ کی دعوت سنجیدہ بحث کا موضوع نہ بنے بلکہ مذاق کا موضوع بن کر رہ جائے۔ ’’بدعملی کا خوشنما بننا‘‘ یہ ہے کہ آدمی کچھ خوش نما الفاظ بول کر حق کو رد کردے۔ یہی آدمی کی گمراہی کی اصل جڑ ہے۔ یعنی حقیقی دلائل کے مقابلہ میں شوشہ کی بات کو اہمیت دینا، کھلی بے راہ روی کو جھوٹی توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرنا وغیرہ۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جو حق محکم دلیل کے اوپر کھڑا ہوا ہو اس کو بےبنیاد شوشے نکال کر مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔