Recitation
Next: 4_9
Arabic
وَإِذَا حَضَرَ ٱلۡقِسۡمَةَ أُوْلُواْ ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينُ فَٱرۡزُقُوهُم مِّنۡهُ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا
Urdu
اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو
English
And when [other] relatives and orphans and the needy are present at the [time of] division, then provide for them [something] out of the estate and speak to them words of appropriate kindness
Tafsir — Bayan ul Quran
مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔