Recitation

Next: 4_30


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا


Urdu

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے


English

O you who have believed, do not consume one another’s wealth unjustly but only [in lawful] business by mutual consent. And do not kill yourselves [or one another]. Indeed, Allah is to you ever Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔ دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔


Connections

  • Previous: 4_28
  • Next: 4_30
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes