Recitation
Next: 4_176
Arabic
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَٱعۡتَصَمُواْ بِهِۦ فَسَيُدۡخِلُهُمۡ فِي رَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَفَضۡلٖ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَيۡهِ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا
Urdu
اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا
English
So those who believe in Allah and hold fast to Him - He will admit them to mercy from Himself and bounty and guide them to Himself on a straight path
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کرکے حقائق کو آخری حد تک روشن کردے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلّح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کرسکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔خدا وہ ہے جو سورج نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لیے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے۔ جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بدکاتا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑکر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقینا شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوںگے۔جب آدمی کا یہ حال ہوجائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق پر مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچا رہے۔ میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیںہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔